top of page

DAILY NEWS UPDATE

Presidential System.jpg

BLOGS
PAKISTAN AWAMI LEAGUE

پارلیمانی اور صدارتی نظام کا تقابلی جائزہ اور صدارتی نظام کے فوائد

PUBLISHED ON 01-04-2023

   آج ملک بھر میں صدارتی نظام حکومت کے بارے میں بحث ہو رہی جو کہ لائق تحسین ہے ۔ماہرین سیاسیات نے صدارتی اور پارلیمانی نظام ہائے حکومت کی خوبیوں اور خامیوں پر طویل بحثیں کر رکھی ہیں۔ اعداد و شمار کی رو سے دنیا کے ’’75 فیصد‘‘ جمہوری ممالک میں صدارتی طرز حکومت رائج ہے۔ یہ امر واضح کرتا ہے کہ بیشتر ملکوں میں صدارتی نظام کو فوقیت حاصل ہے، اس نظام میں صدر حکومت اور مملکت ‘ دونوں کا سربراہ ہوتا ہے۔یہ سہرا بھی پارلیمانی نظام کو ہی جاتا کہ کہنے کو تو تمام سیاسی جماعتیں جمہوری کہلاتی ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ہر سیاسی جماعت موروثی سیاست کر رہی ہے ،اور پاکستان اس وقت واحد ایسا ملک بن چکا ہے جہاںباپ کے بعد بیٹا پھر پوتا اور اسی طرح نسل در نسل اپنوں کو نوازا جاتا ہے اور غریب کبھی بھی سیاست میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے ،دنیا بھر میں جس ملک میں بھی پارلیمانی نظام رائج ہے وہ ملک کہیں نہ کہیں مسائل کا شکارضرور ہے ،اب آپ دیکھیں کہ ہمارے ملک میں پارلیمانی نظام رائج ہےاور اسی نظام کی بدولت آج لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں ،غربت کے تناسب میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے،ٹیکس دینے والی 90فیصد عوام ہے جبکہ اس پر عیاشیاں کرنے والی 10فیصد اشرافیہ ہے ۔غریب کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں جبکہ کہ سیاست دانوں کے کتوں کی غذابھی بیرون ممالک سے آرہی ہے تو پھر ہم کس طرح پارلیمانی نظام کو سپورٹ کریں ۔
   پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہےاور ہمارے ملک تعلیم کا تناسب ساٹھ فیصد سے بھی کم ہے ،ووٹ دینے والے کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس کو اور کیوں ووٹ دے رہا ہے ۔ بدقسمتی سےہم ایسے ملک کے باشندے ہیں جہاں ووٹوں کو نوٹوں کے بدلے بھی دیا اور لیا جا تا ہے ۔اگرآپ ان کو ممالک کو دیکھیں جہاں پارلیمانی نظام رائج ہے تو ان ممالک میںآپ کو سرفہرست برطانیہ‘ آسٹریلیا ‘ کینیڈا ‘ ملائیشیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نظر آئیں گےجہاں پارلیمانی نظام حکومت صرف اس لیے کامیاب ہےکیونکہ ان ممالک میںٹوٹل آبادی کا 90فیصد سے زائد حصہ تعلیم یافتہ ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور ووٹر جانتا ہے کہ اس کی ذات ،محلے اور ملک و قوم کی بہتری کے لیے کون سا امیدوار موزوں رہے گااور تبھی وہ کسی لالچ، ترغیب اور خوف کے بغیر آزادی سے اپنا ووٹ استعمال کرسکے گا۔ مگر جن ممالک میں خواندگی کم ہے‘ وہاں پارلیمانی نظام حکومت کا ناگفتہ حال بھی ہمارے سامنے ہے۔
   
پارلیمانی نظام میں عام طور پر طاقتور اور دولت مند لوگ ہی اسمبلیوں میں پہنچتے ہیںاور یہاں تک کہ اس نظام کے باعث مجرم تک حکمران بن بیٹھتے ہیںچنانچہ جمہوریت کے مشہور قول  " عوام کی حکومت ‘ عوام کی طرف سےحکومت اور عوام کے لیےحکومت "  کا تو جنازہ نکل جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روز اول سےایک مخصوص اور طاقتور ٹولہ پاکستانی عوام پر حکومت کر رہا ہےجو پچھلے چھہتر برس سے محیر العقول طور پر بارسوخ اور امیر ہو چکا جبکہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،عوام آج بھی آٹے چینی کی لائنوں میں دھکے کھا رہی ہے اور اکثریت غربت و جہالت کے گدھوں کے پنجوں میں پھنسی بلبلا رہی ہے۔
   
پاکستان کے حالات مدنظر رکھے جائیں تو حقیقتاً صدارتی نظام حکومت زیادہ سود مند دکھائی دیتا ہے۔ اس نظام میں ارکان اسمبلی صرف قانون سازی تک محدود ہوجاتے ہیں۔ حکومت کرنے میں عموماً ان کا زیادہ کردار نہیں ہوتا، وجہ یہ ہےکہ صدر پارلیمنٹ سے باہر بیٹھے کسی بھی دانشور، عالم فاضل یا تجربے کار و اہل شخص کو وزیر بناسکتا ہے۔ گویا پاکستان میں صدارتی نظام رائج ہوا، تو ارکان اسمبلی کی قوت کم ہوجائے گی جبکہ عوام کے منتخب کردہ صدر کی طاقت بڑھے گی۔صدارتی نظام میں پارلیمنٹ کو مرکزی حیثیت حاصل نہیں رہتی لہٰذا سیاست کاروبار نہیں بن پاتی۔ جبکہ پارلیمانی نظام میں سیاست نسل در نسل چلتی ہے اور گنے چنے خاندانوں اور ان کی نسلوںکا انتہائی منافع بخش بزنس بن جاتی ہے۔ پاکستان مخصوص کوٹے پر کئی گھرانوں کی خواتین بھی اسمبلیوں میں پہنچ رہی ہیںایسامحسوس ہوتا ہےکہ انہیں قانون سازی نہیںبلکہ حکومت کرنے اور فیشن میں زیادہ دلچسپی ہے۔

   صدارتی نظام میںجو امیدوار صدر بنتا ہے، وہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سےاہل اور قابل شخصیات چْن کر انہیںوزیریا مشیر بناسکتا ہےاور یوں باصلاحیت اور اہل افراد پر مشتمل کابینہ وجود میں آتی ہے جو بہتر طور پر ملک چلانے کی صلاحیتیں رکھتی ہے، اور پھر صدارتی نظام کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس نظام میںعدلیہ،انتظامی اور دیگرادارے بشمول بلدیاتی ادارےطاقتور اور خودمختار ہوتے ہیںجس سےطاقت نچلے طبقے تک پہنچتی ہے۔
   تمام اسلامی ممالک میں ترکی بڑی اہمیت رکھنے والا ملک ہے۔اسلامی ممالک میں صدارتی نظام کے نفاذ کے حوالے سے ترکی ہمارے سامنےسب سے بڑی مثال ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوغان نے ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کے بعد جو کام کیے ان سے نہ صرف ترکی بلکہ پورے عالم اسلام کو فائدہ پہنچا ہے۔
   
اب ہمیں بھی صدارتی نظام کی طرف جانا چاہیے اور پاکستان میں ایسا صدارتی نظام لاگو کرنا چاہیے جو بالکل خلافت راشدہ جیسا ہو ،صدر براہ راست عوام کے ووٹوں سے آئے لیکن اس کے پاس اختیارات خلفائے راشدین والے ہو ں۔ہم شروع دن سے ہی پاکستان میںپارلیمانی نظام دیکھتے آرہے ہیںاوراب اس کی تمام خوبیاںاور خامیاں ہمارے سامنے ہیں۔پارلیمانی نظام میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح ملک کو2ٹکڑوںمیںتقسیم کر دیا گیا ،نناوے فیصد عوام پر کس طرح ایک فیصد اشرافیہ کو مسلط کیا گیا ۔ہمیں تعلیم، صحت اوربنیادی انسانی ضروریات سےہمیشہ محروم رکھا گیا ،ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ ملک صرف چند خاندانوں کو ہی نوازنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔پاکستان میں رائج پارلیمانی نظام کے تحت روزانہ ہزاروں نوجوان بیروزگاری کے سبب میرٹ کا جنازہ پڑھتے ہیں، والدین بچوں کوانتہائی مشکل اورنامساعد حالات میں تعلیم دلواتے ہیں لیکن ڈگری کےحصول کے بعدہمارا نظام ان کے جذبات کے ساتھ کھیلتا ہے۔

bottom of page